وارداتیا

ہوا یوں تھا

کہ وہ دانستہ’ نادانستہ اُس دن

کارگاہِ مصلحت کے ساختہ’ آنکھوں کے عدسے

اپنے گھر پر بھول آیا تھا

وہ وسطِ شہر سے گزرا تو شاید

راج گھر میں اُس سمے اجلاس جاری تھا

اُسے ایسے نظر آیا کہ جیسے کوئی منظر ہو

ڈرامے کا

ہنسا وہ مسخرہ پن دیکھ کر سنجیدہ چہروں پر

محبت کی کہانی میں

اُسے گرما دیا تکرار کی تکرار کرتے عشق بازوں نے

تصادم خیز تھا ماحول برجستہ کلامی کا

فضا میں سنسنی ٹلتے ہوئے سسپنس کی سی تھی

دھوئیں اور دھول کے سیناریو میں

یہ اُبھرواں اور اُجلایا ہوا منظر

اُسے ایسے پسند آیا

کہ بے قابو سا ہو کر داد دی دل کھول کے

اُس نے ڈرامے کے مصنف کو

اسی پاداش میں جیسے کہ ہوتا ہے ہمیشہ سے

اسے اس عامیانہ پن پہ ٹھہرایا گیا

مجرم’ متین و برگزیدہ کی اہانت کا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s