نخلِ رواں

میں وہ نخل رواں ہوں

جو نمود و نیستی کی گردشوں میں گھومتا رہتا ہے

بستی کے ذخیرے میں

جہاں پر آب رو دنیا کی بہتی ہے

بقائے روزمرہ کی ضمانت میں

جہاں پر وقت

دن بھر گرم کرنیں گوندھنا رہتا ہے

میری سرد مٹی کی قدامت میں

وہ کرنیں’ جو سماع و رقص میں انبوہِ خورشیداں

کے آوارہ خراباتی

لٹاتے پھر رہے ہیں لامکانوں کے اندھیرے میں

یہ سیم و زر ذکاوت اور جذبوں کے

رضائے وقت نے شاید نکالے ہیں

اِنہی کرنوں’ اِسی مٹی، اِسی پانی کے معدن سے

یہ سیم و زر۔۔۔۔یہ میرے بھید کے اثمار جو

لگتے ہیں اوجِ شاخِ ہستی پر

انہیں میں دیکھتا ہوں نیم بینندہ نگاہوں سے

انہیں میں دُور سے چھوتا ہوں

اپنے لمس کی کوتاہ دستی سے

سمجھتا ہوں کہ اِن کو جانچنا شاید مرے پیمانۂِ  لفظ و عدد میں ہو

یہ لامحدود میری جستجو’ میری تمناؤں کی حد میں ہو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s