نئے پرانے کے سنگم

باہر شام کے جنگل کا سناٹا ہے

روپ بدل کر

لمحوں کا چرواہا اپنے

پتلے پھرتیلے پنجوں پر

خون کی بچھڑی بُو کی ٹوہ میں آتا ہے

سوکھے پتوں پر چلنے کی چاپ سنائی دیتی ہے

باڑیں، دیواریں، دروازے

جوں کے توں رہ جائیں گے

کوئی اندر سے جھپٹے گا

اور اچانک خود کو چھو کر دیکھو گے

تو اپنے آپ کو جھاگ لگو گے

جس کے اندر سے جھانکے گی

ایک سفیدی خون کے عادی دانتوں کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s