مراجعت

شامِ فنا کی جھیل پر

کیا بے بسی تھی، جو اُسے اُس سے چھڑا کر لے گئی

باہر محیطِ چشم سے

اک اجنبی سا شخص تھا’ جو دھوپ کے پردیس سے

نکلا بدن پر اوڑھنے

سایہ درختِ آب سے مانگا ہو

اندر بپا کہرام تھا

ہارے ہوئے برسوں کا بنجر منطقے کی ریت پر

ننگی ہوا کی سیٹیوں کے بین میں

چلتے ہوئے۔۔۔۔کیا جانئے’ کیوں رک گیا

شاید اُسے آیا نظر

اِن شدتوں کی اوٹ میں اک عکس سا

کھوئی ہوئی پہچان کا

آئی اُسے شاید زمینِ سبز کی

مانوس مٹی کی مہک

شاید لپک کر آئی ہوں۔۔۔۔سرگوشیاں

دکھ کے پرانے سرمئی خیموں سے اُس کی سمت

پہچانے ہوئے انفاس کی

وہ اجنبی۔۔۔۔کیا جانئے کیوں رک گیا

ممکن ہے خود پر منکشف

ہوتے ہوئے اس نے سنا ہو پاس کی

اُس کنج میں

شاخِ ہوا پر خوشبوؤں کا چہچہا

اُس ڈال پر

جُھولا جُھلاتی یاد کی بانہوں میں

رنگیں چوڑیوں کا نغمہءِخواب آفریں

کچھ دوستوں کا ذکر موجِ ساز پر

احساس کے سنگیت کا چھیڑا ہوا

کوئی پراناواقعہ۔۔۔۔

وہ رک گیا

اور لوٹ کر’ کچھ مختلف انداز میں

دُکھ کے پرانے قافلے سے آ ملا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s