شہر کے لئے دعا

اے خدا عمریں دے

ایسے پیوند لگے پیڑوں کو

جن کی کم وقت نہادوں سے ابھی پھوٹی نہیں

وہ اکائی کی تراوت جو نئی ٹہنی کو

جورِ موسم سے نمٹنے کی سکت دیتی ہے

اے محبت کے خدا!

اپنے ایوانِ تغافل سے ذرا نیچے آ

اور اس شہر کو جو آئنہ داری کے تمدن سے ابھی عاری ہے

جس میں زر خوردہ ثقافت کی عمل داری ہے

اپنی تخریب کے حملے سے بچا

ورنہ یہ رعشہءِخوف

یہ فشارِ ہوس و حرص کا روگ

جس سے اعضائے بدن اپنے توازن میں نہیں

بڑھ گیا اور تو پھر اس کے لئے

نا امیدی کے سوا

نسخہءِچارہ گری کر نہ سکے گی تجویز

تیری بخشش’ تیری فطرت کی مسیحائی بھی

فیصلِ وقت کی بینائی بھی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s