ساحلِ سمندر پر (ماؤ کی نظم پئے تاخہ کے پس منظر میں)

یہیں کبوتر کے اِس بسیرے کے دیدباں سے

روانہ ہو کر

اِسی سمندر کے پار اُتریں

اُفق کے ساحل پہ اُس کی آنکھیں

یہیں پہ دیکھا نئے زمانے کا خواب اُس نے

یہ پاک دربار پانیوں کا

وہی ہے جس میں

ملی اسے خلوتِ بصیرت’ عنان برداریئ تغیر

یہیں پرانی حویلیوں کے کھنڈر سے اُس نے

نئی سحر کا طلوع دیکھا

یہیں سحر کا طلوع دیکھا

یہیں مصور کی آنکھ میں نقش خواب اُبھرا

وہ خواب۔۔۔۔تعبیر بن کے جس کی

ہزاروں برسوں کی جبر خوردہ زمیں سے

یوم حساب اُبھرا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s