روشنی نا روشنی

سارے رنگ ادھورے ہیں

سب خوشبوئیں

میرے مشامِ ذوق کو ترسایا ترسایا رکھتی ہیں

آنکھوں کی اِس ناآسودہ بستی میں

روشنیوں نا روشنیوں کی آپس میں یک جہتی ہے

دھوپ ہمیشہ سائے سے سمجھوتہ کر کے رہتی ہے

ہریالی سے پیلے پن

اور پیلے پن سے ہریالی کے

گردش کرتے موسم میں ایک تماشا برپا رہتا ہے محدود تغیر کا ایک بخل کے عالم میں

عمر کے اس پیمانہءِکم کیفیت کو

رنگیں کر لیتا ہوں اپنے خوابوں کی آمیزش سے

اگلے دن کی دھوپ میں جو اُڑ جاتے ہیں

اِن رنگوں کی بخشش سے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s