دو گواہیاں

وقت کی کہانی میں عام داستانوں کی

منطقیں نہیں ہوتیں

کس طرح یہ فردا سا آگیا تھا ماضی میں

وہ جو روشنی دن کی، رات کی ولایت میں

آکے جھلملائی تھی

وہ جو تختِ زرداراں بے زروں نے اُلٹا تھا

خواب تو نہیں تھا وہ

آرزو کے کہنے پر، لاشعورِ ماضی سے

دفعتاً جو اُبھرا ہو مطلعِ بصارت پر

نیند ہے یا بیداری

ایک جُنڈ سپنوں کی نقرئی سفیدی کا

آنکھ نے بلندی پر پھڑ پھڑاتے دیکھا ہے

دُور کی فضاؤں میں

برگ و شاخ و طائر کے صبح خیز منظر کی

سرخیاں سی ابھری ہیں

اور میرے پاؤں سے اٹھ رہی ہیں جھنکاریں

بیڑیوں کے بجنے کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s