دو چہرے۔۔۔۔ایک چہرہ

دن کے دورانئے میں

ایک بے لیکھ جواری کی طرح

ہار دیتے ہو کمایا ہوا دھن خوابوں کا

پاؤں کے گرد تھکن بن کے لپٹتے ہوئے اِس رستے پر

نیم فہمیدہ مقاصد کی تگ و دو میں رواں رہتے ہو

ایک موہوم سے وعدے کے تعاقب میں سدا

کیوں نہ اک تجربہ کر کے دیکھیں

چل کے اس رات کے میخانے میں

آج ہم اتنا پیئں’ اتنا پیئں

کہ اندھیرا بھی نشے میں آ کر

ہچکیاں لینے لگے

اور جب اپنے ادھورے پن کو

سیل تسلیم کی موجوں میں ڈبو کر نکلیں

ہاتھ رکھے ہوئے اک دوسرے کے کاندھے پر

کیا عجب دن کے دکھاوے کی نظر بندیوں سے

آنکھ آزاد ملے

اور اِن روشنیوں کے خوانچے میں

رکھ کے شیرینیاں جو بیچتا ہے

اس کی آواز پہ بچوں کی طرح

ہم نہ للچائیں کہ یہ زہر لہو میں جا کر

قطرہ قطرہ سیاہی میں بدل جاتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s