دوسرے منظر کی بازگشت

بہت گہرائیوں میں جا کے مت پوچھو

تمہیں میں کیا بتاؤں گا۔۔۔۔ہنسی آ جائے گی مجھ کو

کہ اُن تاریکیوں کے شہر بے حد میں

چراغِ چشم لے کر میں نے دیکھا

چراغِ چشم ایسا تھا کہ جس کے عقب میں بھی

ٹمٹماتی تھیں لویں سی نا شناسائی کے نادیدہ

چراغوں کی

مری تحقیق نا کافی سہی لیکن

وہی جو روشنی تھی دستیاب اُس سے

یہی دیکھا کہ

سچے خواب بھی سچے نہیں ہوتے

اُمیدیں داشتائیں ہیں۔۔۔۔رعایا کی

جو دادِ عیش ناداری پہ پلتی ہیں

جسے عادت ہے خود پہ رحم کھا کھا کر گزر اوقات کرنے کی

تغیر ایک ڈھارس ہے بدلنے کی

یہی دس بیس برسوں کے اُجالے میں

اور اس کے بعد اگلے آمروں کا دور آتا ہے

نشیبوں پر ذرا سے نخل کی مانند ہے دنیا

جو گہرے جبر کی وسعت میں پلتا ہے

وہی رفتہ کا رفتہ

اور آئندہ کا آئندہ

ہمیشہ گھوم پھر کے مطلعِ منظر پہ چڑھتا اور ڈھلتا ہے

وہ عامل۔۔۔۔

اور میں معمول گزرے چار عشروں کے تماشے کا

وہی بولوں گا جو بتلائے گا مجھ کو

کہ میں پس ماندگی میں رہ گیا ہوں وقت سے پیچھے

کہ میں۔۔۔۔

شگفت

ایک خیالِ خواب افروز کی کرنوں نے

اپنے نور سے درزیں بھر دیں بستی کے دروازوں کی

چُپ کی خاک سے تانیں پھوٹیں ہری ہری آوازوں کی

ایک نگاہِ فردا زاد بلندی سے

کیسی کیسی رمزیں لے کر آئی اپنے دامن میں

پھیلی جن سے خوابوں کی خوشحالی آنگن آنگن میں

ایک صدائے دُرونما نے اپنے قول کی برکت سے

صدیوں کی نادار زمیں کو تحفہ کیا نایاب دیا

مٹی کو اک سمت عطا کی’ آنکھوں کو اک خواب دیا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s