حوصلے والے

آ چرائی ہوئی آنکھ سے دیکھ کر

بے نیازانہ برتیں اُسے جو ملا ہے ہمیں

اور چپ چاپ بیزاریاں کاٹنے کی سزائیں سہیں

جیسے فردوس کے راندگاں

آگ کی کیچڑوں میں فراغت سے لیٹے ہوئے

اپنے معمول کی نا امیدی میں جلتے رہیں

اور جیسے زنانِ مہ و سال خوردہ

بجھی جنس کی اور بڑھتی ہوئی عمر کی راکھ کو

دستِ افسوس کی سلوٹوں میں سمیٹے ہوئے

روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوں

اور جیسے کوئی ہر دفعہ

مکتبِ شوق سے لوٹ آئے درِ بند کو دیکھ کر

جس پہ آویزاں نوٹس ہو

تعطیل کے بعد تعطیل کا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s