اندیشہ دار

چیخ کے کہتا ہوں نیزہ برداروں سے

شہر پناہ کے سب سے اونچے بام پہ جو استادہ ہیں

سنو’ سنو

اکڑی گردن کو خَم دے کر تم دیکھو تو

کتنا پانی ڈوب چکا ہے چوری چوری

بستی کی بنیادوں میں

کتنی دھنسی ہوئی مٹی نے

شہر پناہ کی ستر کو ننگا کر ڈالا ہے

ایک دھڑام

جو آج کے دن کو بے فردا کر جائے گی

کون سنے گا

بجلی گرنے کی آواز تو کافی دیر کے بعد

آتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s