آدھی نظم

مشقِ جنوں کرتا رہتا ہوں

جانے کب وہ مرد صفت لمحہ آ پہنچے

جو معمول کی اِس شائستہ نظم کا دامن چاک کرے

دید برہنہ سچائی کی’ لفظوں کو بے باک کرے

آنسو’ توڑ کے ساحل خالی آنکھوں کا

اِس ظلمت کی مٹی کو نمناک کرے

کوئی مداو؟۔۔۔۔اوسطیوں کی نسل مجھے

اپنی عمروں کے ترکے سے عاق کرے

دل کہتا ہے

آ خطرے کی سب سے اُنچی چوٹی پر

جان کو عریاں کرنے کا وہ رقص کریں

جس کو دیکھ کے ساری دنیا پاگل ہو

خون کے اندر صدیوں کی خفتہ آنکھوں میں ہلچل ہو

اور شرر بھر وقفے میں یہ آدھی نظم مکمل ہو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s