مرحبا!

کشفِ منظر کا پیمبر

توڑتا ہے یاس کے آزر کے بُت

آنکھ بے وہم و گماں

دیکھتی ہے جابہ جا اِس وسعتِ شب میں

اُچکتی روشنی کے واقعے ہوتے ہوئے

ذائقے کی آبجو میں خواہشوں کی لہر اٹھتی ہے کہیں

اور اِس باغِ سماعت کی خزاں کے عہد میں

کوئی طائر گیت کے رنگیں پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سے

مہکتی آس کا پیغام دیتا ہے ہمیں

برتری کے تخت پر بیٹھے ہوئے زور آوروں کے سامنے

کوئی سرکش آتشِ بارود سے کر کے کشید

پھونک دیتا ہے سُروں میں اپنے جسم و جان کی سچائیاں

دیکھتی ہے ماریا مغرب کی ظلمت میں

طلوعِ خواب کی رعنائیاں

اور صنعا اپنے بالوں میں سجا کر

پُھول اُجلی دھوپ کے

تنگ گلیوں سے کھلے میدان کی جانب رواں

ڈالتی جاتی ہے مایوسی کے خالی دامنوں میں

مُٹھیاں بھر بھر کے جذبوں کی نیاز

اور ہم خوش ہیں کہ دو جنگوں کے جابر فاتحوں کے سامنے

سینہ سپر ہے زیر دستوں کی انّا

مرحبا!

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s