راج ہنس

پرندہ

دھوپ کے دو چار تنکے

نیم وا منقار میں تھامے ہوئے اترا ہے

خواہش کی بلندی سے

بدن میں کپکپاتے بادلوں کا سرمئی ہیجان پھیلا ہے

وہ اترا ہے

کسی بے نام ساحل پر

ہوا کی چند خود رو جھاڑیوں کے درمیاں اپنے نشیمن میں

(جہاں اُس کی اڑانیں ختم ہوتی ہیں)

سمندر سامنے ہے

اور آنکھوں کے سفینے میں پڑا ہے بادباں لپٹا ہوا

فردا کے سائے میں

وہی ٹھہری ہوئی تصویر کچھ بے صرفہ خوابوں کی

وہی اُس کی پرانی جستجو۔۔۔۔

تخلیق کے اوجِ مقدس سے

اُتر کر حسنِ خوابیدہ کے پہلو میں سحر تک ریت کے بستر پہ سونے کی

تمنا کے صدف میں روشنی کی پرورش کرتی ہوئی لہریں

اُسے ویرانیوں کے چاند کی دف پر

وصال و ہجر کے نغمے سناتی ہیں

سمندر سامنے ہے

اور اس اسرار کی تاریک وسعت میں

اسے کل اور پرسوں بھی

سفر کی قوس پر ایک دودھیا سے نقش کی مانند اُڑنا ہے

وہ کیا ہے؟

کیا خبر بے معنویت کے سفر کا استعارہ ہو

زمیں کی رات میں بھٹکا ہوا

کوئی ستارہ ہو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s