دُوری کے ا فق

آپ ملاپ کا سپنا تم نے دیکھا تھا؟

ہاں سائیں!

وہ میری انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا تھا اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کو دُور افق میں

تکتے تکتے کہتا تھا

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے

موج کا ظرف بڑھے تو دریا ہو جائے

تم چاہو تو

سانس کا جھونکا تیز ہوا کا جنگل بھی بن سکتا ہے

دیکھو! تم سپنے کی جوت جگائے رکھنا اپنے دل کے مندر میں

سر سے سر کو اونچا کر کے اُس دانا سے

جو مانگو گے پاؤ گے۔۔۔۔

آپ ملاپ کی آشا کے اس عمروں لمبے رستے پر

آج میں خود سے پوچھ رہا ہوں

وہ جو بیچ شراروں کے

میں نے جذبوں کے موسم میں بوئے تھے

اُن سے راکھ کی فصلیں کیوں اُگ آئی ہیں؟

(ہاں سائیں!

روز کے سمجھوتوں کے بدلے

اتنا ہی تاوان ادا کرنا پڑتا ہے)

اور زیاں کے اِس حاصل سے

میں نے یاس کا جو آکاش بنایا ہے

اس کے نیچے، شام کے میلے میں دنیا کے سوداگر

مجھ سے آنکھ بچا کر کیسے

رنگ برنگے منظر اُس کی آنکھوں میں بھر جاتے ہیں

وہ۔۔۔۔ جس کی انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا ہوں اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کی جانب تک کر کہتا ہوں

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے! ۔۔۔۔ خاکستر ہے!

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s