خواب کی خالی مچان

چار دیواری میں گر گر کر شفق بجھتی ہوئی

دید بانوں سے لگی آنکھوں میں

ننگے خنجروں کے عکس تھرائے ہوئے

اور بے بازو جواں کے سامنے رکھی ہوئی

خالی کماں

مسکنِ تقدیر ۔ ۔ ۔ ۔ ایوانِ سفید

بھیجتا ہے زر نوشتہ حکم روہیلے کے نام

بے بسی کے قصر میں

نوجواں شہزادیوں کے جسم

خوفِ مرگ سے ڈھلکے ہوئے

اورآ نکھوں میں سلائی پھیرتا لمحہ

زوالِ روشنی لکھتا ہوا

سب نے اپنے دوش پر

رکھا ہوا ہے کپکپاتا ہاتھ کل کی آس کا

دےکھ! منظر یا س کا

کس طرح یہ بے ارادہ جرأتیں

طے کریں اک جست میں پس ماندگی کا فاصلہ!

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s