بے نام ہونے کی آرزو

کسی شجرے کی ٹہنی پر ہوئی ہے

لمحہءِحاضر کی ہریالی

ہوا نسیاں زدہ پچھلی خزاں کے رفتگاں کی

خاک پر رقصاں

خمیدہ ہو کے مُجرا پیش کرتی ہے

حضورِ برگِ تازہ میں

یہ عشوہ ساز واقف ہے پرانے باسیوں کی رسم و عاد ت سے

یہ بستی کیسی بستی ہے!

جہاں پر لوگ اچھے نام کی شیشم سے

دروازے، دریچے او دہلیزیں بناتے ہیں

یہی دو چار عشروں میں

جنہیں لمحوں کی دیمک چاٹ جاتی ہے

عجائب گاہ میں یہ اسمِ نامعلوم کس کا ہے!

جسے اسلوب کا ماہر

دعائے جستجو سے زندہ کرتا ہے

کسی قدرِ مروج کے حوالے سے یہی دو چار عشروں کے لئے

اس سے زیادہ کون جیتا ہے

تو پھر بہتر یہی ہو گا کہ دروازے کی مستک سے

ہم اپنے نام کی تختی اتروا دیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s