اے ہمیشہ کے زندانیو!

اک جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

راز کے سب حصاروں کو تسخیر کرتے ہوئے

اپنے دل میں اترتے ہوئے

پنجہءِدست سے نوچ لوں

وہ جڑیں جن سے اگتا ہے میری حدوں کا شجر

۔۔۔۔ منظرِکرب میں

آ ذرا دیکھ زنداں کی زنجیر کو حالتِ ضرب میں

سرمگیں آنکھ سے

غصہءِبے بسی کے شرارے نچڑتے ہوئے

اور آہن کے ہونٹوں پہ محشر بپا

جھنجھلائی ہوئی چیخ کا

اور پھر پوچھ خود سے کہ

پاؤں کی جولانیوں کی حدیں ہیں کہاں

۔۔۔۔۔۔ ان سلاخوں سے باہر ہرے پیڑ پر

کٹ کے گرتی پتنگوں کی چھوڑی ہوئی ڈور سے

ایک طائر کسی سایہءِشے کی مانند

لٹکا ہوا

۔۔۔۔ اور اس سے پرے

یہ شعاعِ نظر، آنکھ کی راہبر

سارے رنگوں کو مُٹھی میں بھینچے ہوئے

جانے کیا دیکھتی ہے دکھاتی ہے کیا

رُت کی پھلواریوں میں کہیں

خاک سے تادمِ گل، تمنا کے زندانیوں کا نفس

تارِ خوشبو کی مانند چلتا ہوا

۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے افق اور آگے افق

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

چار دیواریاں

وسعتوں کے مدور علاقے کی

چوکور شکلیں ہیں کیا؟

یہ چھتیں آسمانوں کی نقلیں ہیں کیا؟

یہ نگاہ و تصوّر کی پرواز، آزادیوں کی ہوس

خاک کی خوش خیالی ہے کیا؟

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

ضبط و تسلیم کی عادتیں ڈالنے کی دعا دو مجھے

کیا عجب اس طرح

اپنی شدت کو میں معتدل کر سکوں

یا

کسی دن جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

خود کو ہر دل کے اسرار میں

منتقل کر سکوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s