اے وطن!

اے وطن!

کوئی کیوں مجھ پہ تیری ثنا،

تیری توصیف کی شرط عائد کرے

جبکہ میری محبت کی خاموشیاں

لفظ کے شور سے معتبر

میرے سینے کے معبدمیں تیرے تقدس کی گلنار

شمعیں جلائے رکھیں

عطر سا کنجِ دل میں اڑائے رکھیں

میں کہ پیکر ہوں تیری ہی مٹی کی تخلیق کا

تیری مہکار کو ہر مسامِ بدن میں چھپائے ہوئے

فخر کرتا ہوں خود پر کہ میں

زندگی کی سفارت میں تیرا نمائندہ ہوں

اور تیری ہی تائید سے زندہ ہوں

تیری ”تو” میری ”میں” ۔۔۔۔۔۔ ایک باطن کے دو روپ ہیں

اے وطن!

میں تری خاک کی سرفرازی کے اِقرار میں

سر اٹھائے رکھوں

اور میرا یہ انداز ہی ہے قصیدہ ترا

اے وطن!

گونجتا ہے مرے خواب میں نغمہءِناشنیدہ ترا

میری ناداریوں پر

ترا منظرِخلد کھلتا نہیں

گنجِ بخشش پہ بیٹھے ہوئے اژدہوں کی شررر بار پھنکار سے

ترے فرزند جھلسے ہوئے

تیری اولاد صدیوں سے اجڑی ہوئی

استقامت سے امید کے رزق پر جی رہی ہے

کہ تو۔۔۔۔ ایک دن

پست و بالا کی تفریق سے ماورا

ایک سی روشنی۔۔۔۔ مثلِ خورشید۔۔۔۔ تقسیم کرتا نظر آئے گا

سارے پیڑوں پہ ہریالیوں کا ثمر آئے گا

اے وطن! اے وطن!

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s