ایک پرانے ورق پر نئی تحریر

بہت دھوپ ہے

میرے آنگن کی مٹی۔۔۔۔ ہنسی اور شرارت کے چھونے سے

جیسے سنہری سی ہونے لگی ہے

مرے پاس رنگین ملبوس میں اک خوشی

جھلملاتی کرن کے بنائے ہوئے نقش

برگِ گلابی کے نزدیک ٹھہری ہوئی نرم خوشبو کی مانند

بیٹھی ہوئی ہے

اور گہرے مساموں میں گھلتا ہوا لمس

بے نام سی سنسی کا

ہرے نم سے آلودہ سانسوں میں جیسے

اُجالے کے چھلکے ہوئے جام کی جھاگ سی مل رہی ہو

کہیں کوئی آنسو پس چشم ٹھہرا ہوا

جس سے تقطیر ہو کر نظر

ایک قوسِ قزح سی رگِ جاں کے اندر بناتی ہوئی

پانیوں میں کنول سے کھلاتی ہوئی

اور میں اس سے کہتا ہوں

اے مہر لمحے کے مندر میں چھیڑی ہوئی راگنی!

اے گلابوں کے رستے سے آئی ہوئی روشنی!

اِس گھڑی کے جزیرے کے چاروں طرف

تجھ سے آگے بھی تو، تجھ سے پیچھے بھی تو

اور میں تیرے موجود کے عکس کا عکس دل میں لئے

روز کے رنگ میلے میں بھٹکا ہوا

دور سے دیکھتا ہوں تجھے

اور اب دیکھتے دیکھتے گلشنِ شام میں آگیا ہوں

جہاں ایک آوارہ لڑکے کی مٹھی سے اُڑتے ہوئے

شوخ جگنو کے پیچھے

نظر حیرتوں کے دھندلکے میں کھوئی ہوئی ہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s