اُس سے دو ملاقاتیں

جان کے امبر پہ ساون خواہشیں اُمڈی ہوئی

اور آنکھوں کی خیاباں میں

مہکتی روشنی

پوششِ گل میں کسی ندی پہ تکتا ہوں تجھے

اک لپکتا عکس۔۔۔۔ آئینے کے اندر مضطرب

ایک منظر کا سنہراپن۔۔۔۔ ہرے جنگل میں آوازِ سحر کے شور سے

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تُو دہکتی سانس کی سچائیوں سے

مجھ کو مجھ سے آشنا کرتی ہوئی

جنگلوں کی راج دھانی میں سوئمبر جان کی پہچان کا

اور اب۔۔۔۔

دیکھتا ہوں شہر کی اونچی فصیلوں کی اُترتی دھوپ میں

رسم کے ملبوس میں لپٹا ہوا تیرا بدن

مجھ سے میری دوریوں کے کرب سے ناآشنا

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تیرا پیکر

سرمئی سی شام کے اسرار سے رنگِ شفق کی دلبری

چھِنتی ہوئی

اور تو اس جھٹپٹے کی شاہزادی

خوبصورت۔۔۔۔ نیم دیدہ خواب کی مانند

لگتی ہے مجھے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s