المیے کے فالتو کردار

اور وہ کیا المیے کے فالتو کردار تھے؟

شہر کی چوکوں میں

جن کا شوقِ وارفتہ لہو اور آگ کی تحریر میں

اپنی گواہی دے گیا

اور وہ۔۔۔۔۔۔

ٹکٹکی پر جن کے چمکیلے بدن داغے گئے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

جو گیارہ پہر لمبی رات کی راہداریوں میں پابجولاں

اپنی گھٹتی عمر کی بڑھتی مسافت میں رہے

جن کے دل کی دھڑکنیں

ایام کی تسبیح پر وردِ وفا کرتی رہیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

دہشتِ زندان و مقتل کا سگِ مخبر جنہیں

سُونگھتا پھرتا رہا بستی کی ہر دہلیز پر

تھیں مقرر جن کے سر کی قیمتیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

اپنے پیاروں سے بچھڑ کر جو عجب افسوس کی

ہجرت سرائے میں رہے

شاہ گر کا ذہنِ حکمت ساز کہتا ہے یہی

یہ ہجومِ عاشقاں اب بے افادہ ہو چکا

قصر و قُوت تحفۂ تقدیر میں

بخت زادی سے کہا جائے

کہ وہ یکتائیوں کے شہ نشیں پر جلوہ افروزی کرے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

شاہ گر۔۔۔۔ چہرہ بدلنے کے پرانے پیشہ ور

اپنے سحرِ حکمت و الفاظ سے

بخت زادی کے لئے ایسی کرشمہ سازیاں کرتے رہیں

اُس کے سر سے ہر بلا ٹلتی رہے

مملکت چلتی رہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s