ادھوری گونج گیتوں کی

اُداسی وسعتوں میں گا رہی ہے

اور میں خیمے میں بیٹھا ہوں

کسی بیتی ہوئی بستی کے دریا پر اترتی چاندنی کی

نیلمیں دھندلاہٹوں میں دیکھتا ہوں

اس کے چہرے کا کنول

اور سنتا ہوں

گئی رُت کے سنہرے پاؤں میں بجتی ہوئی

جھانجر کا، ہر لحظہ بدلتے سُر کا گیت

اور میرے پاس ہی سایہ مرا

گھٹنوں پہ سر رکھے ہوئے چپ چاپ،

چاکِ چشم سے لے کر تصّور کے افق تک

اس کی، ہلکے سرمئی رنگوں میں

تصویریں بناتا ہے

ادھوری گونج کے اس پیش منظر میں

زمینیں نارسائی کی

جہاں پر ساتھ چلتے چاند کو

آوارہ رکھتی ہیں نگاہیں آخرِ شب تک

جہاں پرانگلیاں لکھتی ہیں پھیلی ریت پر

اک حرف، نامعلوم سا

معدوم سا۔۔۔۔ آتی ہوا سے مہلتیں لے کر

محبت! اے محبت تو کہاں ہے

وقفہءِدائم ہمارے درمیاں ہے

اور میں افسوس کے قرطاس پر

لکھے ہوئے ضائع شدہ حرفوں کو اپنی

نوکِ ناخن سے کترتا ہوں

پھر اس گھاؤ میں

چشمِ آبدیدہ سے گزرتی روشنی کے رنگ بھرتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s