آشنا نا آشنا

دِن کے مکان میں

لائے کرن سفارتیں سورج کے شہر کی

در آئے تنگیوں میں دریچے کی آنکھ سے

وُسعت سپہر کی

نیرنگِ واقعات سے ہر سو بنی ہوئی

تصویر دہر کی

ہر گُل کی چشم وا

تکتی ہے ایک منظر ہم زاد چار سو

اڑتی ہے اوجِ شاخ سے ہریالیوں کی بو

لمحوں کے چنگ سے

پھوٹیں شرار نغمہ سرائے بہار کے

رُت کے چڑھاؤ میں

موہوم، بے نشان اشارے اتار کے

نادید کا نمو

حلقے میں گھومتی ہوئی گونجوں کی آب جو

آوازِ ہفت زاویہ موسم کے اسم کی

جیسے ہو یہ زمیں کوئی وادی طلسم کی

آنکھوں کے آس پاس

عیشِ رواں میں بہتی ہوئی ناؤ جسم کی

دلدادہءِحواس

تکتا ہے اپنی چشمِ تمنا کے روبرو

دلدارِ خوبرو

جس کے بدن میں اطلسِ دنیا کا لمس ہے

بیٹھا ہے جونمود کی اونچی نشست پر

جلوے کی شست پر

رنگوں کی دھوپ میں

پھیلی ہیں خوشبوئیں گلِ ثروت کے عطر کی

ایسی کشش میں خود کو سبک کر سکے تو کر

جینے کالطف لے

کس نے تجھے کہا ہے کہ محرومیوں پہ مر

اے ہفت آشنا!

اے آسماں نورد!

آوارہءِہوا، تری بلقیس کا محل

تقدیس کا محل

سچ کی بلندیوں کا کہیں خواب ہی نہ ہو

ایسے میں فیصلے کا کوئی اہتمام کر

آ خود کو عام کر

گہرے بدن کا عطر کیوں ملبوس میں رہے

رقصِ تمام کر

کیوں داغ رنگ کا پرِ طاؤس میں رہے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s