چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 27
مجھ میں وہ تاب ضبط شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب
وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبط راز تھا
چہرے سے اپنے شورش پنہاں عیاں ہے اب
جس دل کو قید ہستی دنیا سے تنگ تھا
وہ دل اسیر حلقہ زلف بتاں ہے اب
آنے لگا جب اس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب
حالیؔ تم اور ملازمت پیرے فروش
وہ علم و دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب
الطاف حسین حالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s