یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 20
جہاں میں حالیؔ کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا
جو لاکھ غیروں کا غیر کوئی، نہ جاننا اس کو غیر ہرگز
جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا
سنا ہے صوفی کا قول ہے یہ کہ ہے طریقت میں کفر دعویٰ
یہ کہدو دعویٰ بہت بڑا ہے پھر ایسا دعویٰ نہ کیجئے گا
کہے اگر کوئی تم کو واعظ کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہو
زمانہ کی خو ہے نکتہ چینی، کچھ اس کی پروا نہ کیجئے گا
لگاؤ تم میں نہ لاگ زاہد، نہ درد الفت کی آگ زاہد
پھر اور کیا کیجئے آخر جو ترک دنیا نہ کیجئے گا
الطاف حسین حالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s