گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 4
چاہئے ایک سب کا ہو مقصود
گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض
یاد میں تیری سب کو بھول گئے
کھو دئیے ایک دکھ نے سب امراض
دیکھئے تو بھی خوش ہیں یا نا خوش
اور تو ہم سے سب ہیں کچھ ناراض
رائے ہے کچھ علیل سی تیری
نبض اپنی بھی دکھ اے نباض
ایسی غزلیں سنی نہ تھیں حالیؔ
یہ نکالی کہاں سے تم نے بیاض
الطاف حسین حالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s