جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 18
ہم کو بھی آتا تھا ہنسنا بولنا
جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج
آ گئی مرگ طبیعی ہم کو یاد
شاخ سے دیکھا جو خود گرتا ترنج
راہ اب سیدھی ہے حالیؔ سوئے دوست
ہو چکے طے سب خم و پیچ و شکنج
الطاف حسین حالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s