بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 24
کچھ کرتے ہیں جو یاں وہی انگشت نما ہیں
بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا
ناچیز ہیں وہ کام نہیں جن پہ کچھ الزام
جو کام ہیں ان کا یہی انعام ہے گویا
ہے وقت راحیل اور وہی عشرت کے ہیں ساماں
آخر ہوئی رات اور ابھی شام ہے گویا
جب دیکھئے حالیؔ کو پڑا پائیے بیکار
کرنا اسے باقی یہی اک کام ہے گویا
الطاف حسین حالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s