یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s