ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s