کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 45
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کے
ہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے
خمارِ نشّہ سے نگاہیں ان کی کہتی ہیں
یہاں کیا کام تیرا، یہ تو متوالوں کی بستی ہے
جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کا
صراحی ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ مستی ہے
ہمارے گھر میں جس دن ہوتی ہے اس حور کی آمد
چھپر کھٹ کو پری آ کر پری خانے سے کستی ہے
چلے نالے ہمارے یہ زبان حال سے کہہ کر
ٹھہر جانا پہنچ کر عرش پر، ہمّت کی پستی ہے
امیر اس راستے سے جو گزرتے ہیں وہ لٹتے ہیں
محلہ ہے حسینوں کا، کہ قزاقوں کی بستی ہے؟
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s