کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 27
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
دو کی جگہ دئیے مجھے بوسے بہک کے چار
تھے نیند میں، پڑا اُنہیں دھوکا حساب میں
سمجھا ہے تو جو غیبتِ پیر مغاں حلال،
واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟
دامن میں اُن کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر
بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s