کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 44
عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے
کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے
لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے
بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے
نکالا چاہتے ہیں زر گرہ غنچوں نے کھولی ہے
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رختِ عریانی
گریباں ہے، نہ پردہ ہے، نہ دامن ہے، نہ چولی ہے
صراحی دور میں آتی ہے، زاہد ہوں جو محفل میں
جھُکا لیں اپنی آنکھیں، دخترِ رز کی یہ ڈولی ہے
امیر ، اس بے وفا دنیا کی صورت پر نہ تم جاؤ
بڑی عیّار ہے، مکّار ہے، ظاہر میں بھولی ہے
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s