ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 25
اس کی حسرت ہے ، جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں
وصل میں چھیڑ نہ اتنا اسے اے شوق وصال
کہ وہ روئے تو کسی طرح منا بھی نہ سکوں
ڈال کر خاک مرے خوں پہ، قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
کوئی پوچھے تو محبت سے یہ کیا ہے انصاف
وہ مجھے دل سے بہلا دے میں بہلا بھی نہ سکوں
ہائے کیا سحر ہے یہ حسن کی مانگیں جو حسیں
دل بچا بھی نہ سکوں جان چھڑا بھی نہ سکوں
ایک نالے میں جہاں کو تہہ و بال کر دوں
کچھ تیرا دل یہ نہیں ہے کہ ہلا بھی نہ سکوں
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s