نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 33
ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s