غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s