سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 11
ایک دل ہم دم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے ، جوانی کیا گئی
وہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا
آنے والا جانے والا، بے کسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم غریب، آتا رہا جاتا رہا
مرگیا میں جب ، تو ظالم نے کہا کہ افسوس آج
ہائے ظالم ہائے ظالم کا مزہ جاتا رہا
شربت دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی
دیکھ لینے سے دوا کے ، درد کیا جاتا رہا
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا ، چھیڑ کر کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو، کیا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ دل تھا شکووں سے بھرا
جب گلے سے مل گئے، سارا گلہ جاتا رہا
ہائے وہ صبحِ شبِ وصل، ان کا کہنا شرم سے
اب تو میری بے وفائی کا گلہ جاتا رہا
دل وہی آنکھیں وہی، لیکن جوانی وہ کہاں
ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا
گھورتے دیکھا جو ہم چشموں کو جھنجھلا کر کہا
کیا لحاظ آنکھوں کا بھی او بے حیا جاتا رہا
کیا بری شے ہے جوانی رات دن ہے تاک جھانک
ڈر توں کا ایک طرف ، خوف خدا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s