حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 5
دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا
حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
گھر ہے اللہ کا گھر بے سر و سامانوں کا
پاسبانوں کا یہاں کام نہ دربانوں کا
گور کسری و فریدوں پہ جو پہنچوں پوچھوں
تم یہاں سوتے ہو کیا حال ہے ایوانوں کا
کیا لکھیں یار کو نامہ کہ نقاہت سے یہاں
فاصلہ خانہ و کاغذ میں ہے میدانوں کا
دل یہ سمجھا جو ترے بالوں کا جوڑ دیکھا
ہے شکنجے میں یہ مجموعہ پریشانیوں کا
موجیں دریا میں جو اٹھتی ہوئی دیکھیں سمجھا
یہ بھی مجمع ہے تیرے چاک گریبانوں کا
تیر پہ تیر لگاتا ہے کماندار فلک
خانہ دل میں ہجوم آج ہے مہمانوں کا
بسملوں کی دم رخصت ہے مدارات ضرور
یار بیڑا تیری تلوار میں ہو پانو ں کا
میرے اعضا نے پھنسایا ہے مجھے عصیاں میں
شکوہ آنکھوں کا کرو یا میں گلہ کانوں کا
قدر داں چاہئے دیوان ہمارا ہے امیر
منتخب مصحفی و میر کے دیوانوں کا
امیر مینائی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s