کاہے کو بیاہی بدیس ۔ گیت

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس

بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس

ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں

جد ہانکے ، ہنک جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں

بھور بھئے اڑ جائیں

ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوٹا سہیلی کا ساتھ

کوٹھے تلے سے پالکی نکلی

بیرن نے کھائے پشاد

ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا

آیا پیا کا دیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس؟

امیر خسرو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s