ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ گیت

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما

نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

بحقِّروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو

سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

امیر خسرو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s