ہری نظم

ہم نے وقتوں کی فہرست میں نام ان کا لکھا

جو ہمارے وفادار تھے

اور ان کا لکھا

سبز سچائیاں جن کے تازہ لہو سے مہکتی رہیں

جن کے لہجے میں فردا کا اقرار تھا

اور جو راستے میں پڑی سلوٹیں

اپنے دکھ کے گرانبار قدموں سے ہموار کرتے رہے

کل نئے وقت کی دھوپب تاریک قلعوں کو مسمار کرتے ہوئے

پھیل جائے گی بے انت آزادیوں کی طرح

اپنی مٹی سے اوینس اٹھے گا جب

اور جب تیسرے شہر کی

زرد نسلیں، سیاہ فام آبادیاں

لکھ چکیں گی نیا عہد نامہ نئے وقت کا

تو زمیں گنگنانے لگے گی ہری گھاس کی اُس ہری نظم کو

جس کے مَیں اور تُو اور وُہ لفظ ہیں

بول ہیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s