گماں کی منطق

دریا کے گہرے باطن میں

نادیدہ انبوہ پسِ انبوہ رواں رہتا تھا لیکن

سطحِ آب پہ آکر جو معروف ہوئیں وہ اسم نما لہریں کتنی تھیں

اور گہر

جو ساحل کی منظر گاہوں میں

ایک منور لمیے کی انگشت حنائی میں چمکا

وہ گم نامی کی ظلمت میں

بسنے والے ہم زادوں سے کیوں بچھڑا تھا؟

اور پرندہ صحرا کا

اپنی بے مشہو صدا کے سناٹے میں ڈوبا تھا

کیوں ڈوبا تھا؟

اور گلِ رونق پر اُمڈی آنکھوں نے

غفلت کی بے مہری سے

سبزے کو ہر آتے جاتے موسم میں پامال کیا

آخر کیوں؟

شاید یہ امکان کی اپنی منطق ہے

شاید ہر شے

یکسا دہرائے جانے والے فعلوں کی زد میں ہو

کیا معلوم کہ

اس جہور کی بے نام آور آبادی

جس میں ہم بھی شام ہیں

ہستی کی دانست میں ہو

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s