کہانی

اے سہیلی بتا!

جسم کی یاترا کر کے آئی ہے تُو

موتیے کی ہنسی سے مہکتے ہوئے تیرے گُلنار چہرے پہ

شکنوں میں لکھے ہوئے

بید کے شبد پڑھ کے سناؤں تجھے؟

(اے سکھی! انت کا بھید کس پہ کھلا ہے کبھی)

کیا بتاؤں کہ اُن درشنوں سے

مِری آنکھ سیراب ہو کے بھی

پیاسی رہی

ہاتھ کا لمس ایسا تھا

ہر پور سے دیپ کی لو لپکتی تھی ہر سانس میں

تھرتھری سی کسی ان سُنے گیت کی

کیا بتاؤں سکھی! کس طرح دل دریچے کھلے

اور پنجرے سے

احساس کی نارسائی کا پنچھی اُڑا

میں نے دیکھا سکھی

جھیل کی لہر پھواریوں میں

نئے چاندکا عکس اُگتا ہوا

اور پھر ٹمٹماتے ستاروں کی پریاں مجھے

کل کے سپنوں کے آکاش پرلے گئیں

اسے سکھی! اور پھر یوں ہوا

جب سورے کی پہلی کرن نے جگایا مجھے

گاؤں کا راکششش

جانیے کونسی سمت لے جا چکا تھا انہیں

میں تو چاہت کی ہاری وہئی

مر گئی

اے سہیلی بتا! دُکھ کی بپتا سناتے ہوئے

تُو بڑی سخت جاں ہے کہ

روئی نہیں

ہاں۔۔۔۔ مجھے کل کی سچائیوں پر بھروسہ جو ہے

دُکھ کے رپدیس سے

دیکھنا! شیام پیارے ضرور آئیں گے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s