نارسیدہ لمحے کا بلاوا

زید! یہ کیسے پھول ہری آشاؤں کے

دن کے صحن میں کھلتے ہیں

نیم جنوں کی خوشبوئیں

سینے کے صفحے پہ نقش بناتی ہیں

بے مفہوم، شکستہ خط تحریروں کے

آمکتب سے بھاگ چلیں

دیکھ! وہاں پر

ریت کا ٹھہرا دریا نیلی بینائی کی

وُسعت سے جا ملتا ہے

سُنتا ہے تُو دل میں دھوپ کی دھڑکن سی؟

ایک تمّنا نامعلوم تعاقب کی

ہم سے آگے آہٹ آہٹ چلتی ہے

آدھے عرش کی دُوری سے

دیکھ! پتنگیں کٹ کر ڈولتی جاتی ہیں

پیچھے پیچھے

ریلے ہی ریلے میں اُٹھی باہوں کے

کیا معلوم ہوا کا پرچم کس خوش بخت کے ہاتھ آئے

آہم بھی یلغار کریں

پھر کیا

وہ ہم دونوں سے قدآور بھی ہیں، آگے بھی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s