مُنکروں کے درمیان

مضطرب ذات کہیں

سچ کا تعویذ اتارے نہ مرے بازو سے

اور میں تیرے فسوں میں آکر

اسمِ زر پھونکتی آواز کے ہمراہ چلوں

شر کا شہر رواں ہے جیس

اپنے انکار کی مدہوشیوں کے دائرے میں

میں شفق زاد اجالے کا امیں

تیری تاریکیوں کے تنگ کنوئیں کے اندر

اپنی گونجحوں کا بھنور بن جاؤں

میرے انگوٹھے پر

روشنائی نہ لگا آج کے سمجھوتے کی

میں گزرگاہ تمنا کا مسافر ہوں مجھے جانے دے

زادِ آوارگی کافی ہے مجھے

اس ہوا زار سے گلدستہءِخوشبو لے کر

جب میں دورانِ سفر فردا سرا میں اتروں

اہلِ نوشہر سے یہ کہہ تو سکوں

لوَ تمہارے لئے اِک پھول بچا لیا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s