منظر کا خلا

ماں! آ دیکھ نا آنگن میں

کرنوں کی پیلی چنبیلی بکھری ہے

منڈیروں پہ کیا کیا نقش پرندوں کے

چڑھتے دن نے کاڑھے ہیں

پودے۔۔۔۔ کومل تانیں سی

ہریالی کے گیتوں کی

گلیوں کے میلے میں شور ہے بچوں کا

آس کا بابا

رنگارنگ غبارے لے کر آیا ہے

اٹھ نا! کیا تو رحل کے آگے

ہاتھوں کا کشکول اٹھائے

دن کے خاکستر ہونے تک بیٹھے گی؟

آخر کب تک مانگے گی

دُکھ سے گدلائی ظلمت کے آقا سے

جھاڑو سے اُڑتی مٹی کے مولا سے

دن کے موتی جن کو اس آنگن میں تو کھو بیٹھی ہے

جن کے بدلے

اُس نے اپنی بخشش سے بھر ڈالا ہے

تیری رات کی جھولی کو

اگلے روز کے سپنے سے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s