لشکارا

بالکونی سے شادی کسی سائے نے

جھُک کے دیکھا مجھے

کون ہے؟ کون ہے؟

اور پھر سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آہٹوں کی دبی سنسنی

ایک وقفہ

اندھیرے کے سنسان سینے کے اندر دھڑکتاہوا

بے صدا شور ٹھہری ہوئی سانس کا

در کی درزیں سفیدی کی دو مختصر سی لکیروں سے روشن ہوئیں

اور میں دل کی دہلیز پر

اپنی بھیگی ہوئی مٹّیوں، خشک ہونٹوں کو بھینچے ہوئے

در کے کھلنے کی آواز کا منظر

واپسی کی گزرگاہ پر

دُور ہوتی ہوئی چاپ سُنتا رہا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s