ریت کی پیاس

آؤ کہ چل کے رات کا لا نشہ پئیں

اک پَل کی بے پناہیاں

بے انت آسماں

ہم کو دبوچ لیں

دھچکا ہوا کا بند کواڑوں کو کھول دے

نکلیں حویلیوں سے نظر بند لڑکیاں

بے حُسن منظروں کی سزا وار آنکھ کو

آزادیاں ملیں

رونق کا اک شرر

بس دھوم سی مچا دے فنا کی فصیل پر

پھر اس کے بعد فرش پہ، چاہے تو گر پڑے

آئینہ خواب کا

یہ کیا کہ آپ اپنا تماشا بنے ہوئے

ہم دوسرے کے خفیہ اشارے کے سحر میں

ایام کی بساط پہ چلتے رہیں سدا

اپنے خلاف جنگ کسی اور کی لڑیں

رستے کی قوس پر

جینے کی آس نیم دریدہ لباس میں

دائم کھڑی ہوئی

عریانیوں کی ڈھلکی ہوئی بھیک دے ہمیں

آنکھوں کی تشنگی

اک خوشنما سراب کا جلوہ انڈیل دے

صحرا کی اوک میں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s